19 جولائی 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کل ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات میں زیادہ رفتار اور بہترکیفیت کے حامل نۓ سنٹری فیوجز نصب کۓ جانے کی خبر دی ۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں پرامن ہیں اور یہ سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے تعاون کے ساتھ جاری ہیں ۔ اگرچہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران کی پیشرفت کے اعلان کی شفافیت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعاون کا ایک غیر متغیر اصول ہے لیکن اس کے باوجود ایران کی جانب سے کۓ جانے والے اس طرح کے اعلان کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ہمیشہ منفی ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رامین مہمان پرست کے کل کے بیانات بھی اس رویۓ سے مستثنی نہیں تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ایلن ایر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ ایران کا نۓ سنٹری فوجز نصب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کی پابندی نہیں کرتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنوں کو بہت اہمیت دیتا ہے اور خود اس ایجنسی کے حکام کے اعتراف سے ، کہ ایران نے دوسرے اراکین کی نسبت اس ایجنسی کے ساتھ زیادہ تعاون کیا ہے ، اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ورکنگ ایجنڈے اور نومبر دو ہزار سات اور فروری دو ہزار آٹھ میں پیش کی جانے والی اس ایجنسی کے سربراہ کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق باقی ماندہ چھ امور بھی حل ہوچکے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ورکنگ ایجنڈے کے مطابق ان موضوعات سے متعلق جوابات دے دیۓ ہیں لیکن ان رپورٹوں کے باوجود ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف یورپ کی تشہیراتی مہم کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ یورینیم کی افزدوگی سمیت پرامن مقاصد کے لۓ ایٹمی صلاحیتوں سے ہمکنار ہونا این پی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام ممالک کے مسلمہ حقوق میں سے شمار ہوتا ہے ۔ اس معاہدے کے مطابق یورینیم کی افزودگی اور جائز ایٹمی حقوق کے درمیان کوئي منافات نہیں پائي جاتی ہے۔ اور اس سلسلے میں اراکین کی سرگرمی کو این پی ٹی معاہدے کی شق نمبر چھ کے مطابق قابل احترام جانا گيا ہے۔ لیکن بعض عالمی طاقتیں این پی ٹی معاہدے اور ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کو اپنے مقاصد کے حصول کا حربہ بنانے پر تلی ہوئي ہیں۔ دریں اثناء ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے فرائض میں امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کی واضح مداخلت اور ان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کۓ جانے کی وجہ سے یہ حق پائمال ہوچکا ہے اور یہ ایجنسی اپنے فرائض پر عملدرآمد پر قادر نہیں ہے۔ جس کی ایک مثال اس ایجنسی کی جانب سے تہران کے تحقیقاتی اور میڈیکل ری ایکٹر کو اس کی ضروریات کا ایندھن فراہم نہ کیا جانا ہے ۔ اسی بات کے پیش نظر ایرانی ماہرین نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں ادویات کی تیاری اور میڈیکل ریسرچ کے مقصد سے اس ری ایکٹر کی ضروریات کے مطابق بیس فیصد حد تک یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کر دیا ہے۔ لیکن امریکہ بے بنیاد دعوے کر کے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کررہا ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی بھی ایران میں یورینیم کی افزودگی پر اپنی نگرانی کے باوجود امریکی دعووں کی تصدیق کررہی ہے ۔ ان سب باتوں کے باوجود بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی میں ایران کی پیشرفت ملت ایران کا قابل فخر کارنامہ ہے ۔ در حقیقت امریکہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کی سربلندی اور ترقی کی وجہ سے غم و غصے میں مبتلاء ہے۔ ...............

/169